آب گاہ
قسم کلام: اسم ظرف مکاں
معنی
١ - تالاب، حوض۔ "گزرگاہیں، شاہ راہیں، آب راہیں، آب گاہیں۔" ( ١٩٦١ء، سہ ماہی، اردو نامہ، کراچی، فروری، ١٠ )
اشتقاق
دو فارسی اسما 'آب' اور 'گاہ' کا مرکب ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٩٤١ء کو "سہ ماہی، اردو نام، کراچی، فروری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تالاب، حوض۔ "گزرگاہیں، شاہ راہیں، آب راہیں، آب گاہیں۔" ( ١٩٦١ء، سہ ماہی، اردو نامہ، کراچی، فروری، ١٠ )
جنس: مؤنث